الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
فَصْلٌ فِي كَرَاهَةِ رَدِّ السَّلَامِ أَوِ الِاشْتِغَالِ بِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى حَالَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ باب: قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف¤رہنے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 498
عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ وُضُوئِهِ قَالَ: ((لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ (وَفِي رِوَايَةٍ) إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”مجھے اس چیز نے تیرے سلام کا جواب دینے سے روکا کہ میں باوضو نہیں تھا۔“ ایک روایت میں ہے: ”میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کیا۔“