حدیث نمبر: 496
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَخْرُجُ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَوْرَتَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمی اس طرح نہ نکلیں کہ وہ دونوں پائخانہ کر رہے ہوں، شرمگاہوں کو ننگا کر رکھا ہو اور اس حالت میں گفتگو بھی کر رہے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی صورت پر سخت ناراض ہوتا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … صحیح ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَقْعُدُ الرَّجُلَانِ عَلَی الْغَائِطِ یَتَحَدَّثَانِ یَرٰی کُلٌّ مِّنْھُمَا عَوْرَۃَ صَاحِبِہٖ فَاِنَّ اللّٰہَ یَمْقُتُ عَلٰی ذَالِکَ)) … دو آدمی پائخانہ کرنے کے لیے اس طرح نہ بیٹھیں کہ وہ دونوں باتیں کر رہے ہوں اور ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، کیونکہ اللہ ایسی صورتحال سے ناراض ہوتا ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی اِس ناراضگی کا تعلق بے پردگی اور گفتگو، دونوں چیزوں کے اکٹھا صادر ہونے کے ساتھ ہے۔ قضائے حاجت کے دوران صرف بات کرنا جائز ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے، اس نے سلام کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((اِذَا رَاَیْتَنِیْ عَلٰی مِثْلِ ھٰذِہِ الْحَالَۃِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَیَّ، فَاِنَّکَ اِنْ فَعَلْتَ ذَالِکَ لَمْ اَرُدَّ عَلَیْکَ)) … جب تو مجھے اس حالت میں دیکھے تو مجھ پر سلام نہ کر، پس اگر تو نے ایسے کیا تو میں تیرا جواب نہیں دوں گا۔ (ابن ماجہ: ۳۴۶)شیخ البانی نے کہا: حدیث ِ مبارکہ کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کی حالت میں ہی یہ بات ارشاد فرمائی، لہٰذا ثابت ہوا کہ قضائے حاجت کے دوران گفتگو کرنا جائز ہے۔ (سلسلہ صحیحہ: ۱۹۷)اسی طرح نہانے کے دوران بھی بات کرنا جائز ہے، جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام ہانی کی آمد پر بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ عائشہ ؓجب اکٹھے نہاتے تو بات کر لیتے تھے، سیدنا ایوب ننگی حالت میں نہا رہے تھے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی اور ان کی بات ہوئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 496
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔أخرجه ابوداود: 15، وابن ماجه: 342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11330»