الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي التَّبَاعُدِ وَالِاسْتِثَارِ عِنْدَ التَّخَلِّي فِي الْفَضَاءِ وَالْكَفِّ عَنِ الْكَلَامِ وَرَدِّ السَّلَامِ باب: قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور¤سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 495
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، قَالَ: فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((وَيْحَكَ، أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ)) الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: بعض لوگوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں،“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی اور فرمایا: ”تیرا ناس ہو، کیا تو نہیں جانتا کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی تھی۔“
وضاحت:
فوائد: … عورت سے تشبیہ دینے کی دو وجوہات ہیں، ایک بیٹھنا اور دوسری پردہ کرنا۔ بنو اسرائیل کی مثال ذکر کرنے سے مقصود یہ تھا کہ اُن لوگوں نے اس معاملے میں تساہل برتا، سو وہ عذاب کے مستحق ٹھہرے۔