الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي التَّبَاعُدِ وَالِاسْتِثَارِ عِنْدَ التَّخَلِّي فِي الْفَضَاءِ وَالْكَفِّ عَنِ الْكَلَامِ وَرَدِّ السَّلَامِ باب: قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور¤سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ أَوْ شِبْهُهَا فَاسْتَتَرَ بِهَا فَبَالَ جَالِسًا، قَالَ: فَقُلْنَا: أَيَبُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: فَجَاءَنَا فَقَالَ: ((أَوَمَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَهُ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ))سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے پاس ایک ڈھال یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت کی طرح پیشاب کرتے ہیں؟“ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے نہیں ہو کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب بنو اسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس مقام کو کاٹتا تھا، لیکن ان کے ساتھی نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیا، پس اس وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا گیا۔“