الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي التَّبَاعُدِ وَالِاسْتِثَارِ عِنْدَ التَّخَلِّي فِي الْفَضَاءِ وَالْكَفِّ عَنِ الْكَلَامِ وَرَدِّ السَّلَامِ باب: قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور¤سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 492
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوِ الْقَدَحِ، فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ وَكَانَ إِذَا أَتَى حَاجَتَهُ أَبْعَدَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن ابو قراد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے جا رہے تھے، پس جب میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو میں پانی کے برتن کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا اور راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جایا کرتے تھے۔