الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
فَصْلٌ فِيمَا جَاءَ فِي الْبَوْلِ مِنْ قِيَامٍ باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 490
عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: فَفَحَّجَ رِجْلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے گندگی والے ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگوں کو کھلا کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا سہل بن سعد، سیدنا انس بن مالک، سیدنا علی، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا عروہ بن زبیر سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مروی ہے۔ اسی طرح جب ایک بدو نے مسجد ِ نبوی میں کھڑے ہو پیشاب کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں اس کو صرف مسجد کے آداب کے حوالے سے بات کی تھی، کھڑے ہونے سے منع نہیں کیا تھا، پہلے یہ حدیث گزر چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام طور پر تو بیٹھ کر ہی قضائے حاجت کرتے تھے، مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا جواز بھی پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص جب عذر ہو۔ جس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھڑے ہونے کی وجہ گھٹنے کے اندرونی حصے میں تکلیف بتائی گئی ہے، وہ ضعیف ہے، امام دارقطنی اور امام بیہقی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
مزید دو روایات اور ان کی حقیقت: سیدنا جابر کہتے ہیں: ((نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَّبُوْلَ الرَّجُلُ قَائِمًا …)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ہے کہ آدمی کھڑے ہو پیشاب کرے۔ (ابن ماجہ: ۳۰۹، یہ حدیث ضعیف ہے)سیدنا عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ((یَا عُمَرُ! لَاتَبُلْ قَائِمًا۔)) … اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کر۔ (ابن ماجہ: ۳۰۸، یہ حدیث بھی ضعیف ہے)
اس باب میں کوئی ایسی صحیح روایت نہیں ہے، جس میں کھڑے ہو پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہو، البتہ بعض موقوف آثار میں اس سے منع کیا گیا ہے۔
مزید دو روایات اور ان کی حقیقت: سیدنا جابر کہتے ہیں: ((نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَّبُوْلَ الرَّجُلُ قَائِمًا …)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ہے کہ آدمی کھڑے ہو پیشاب کرے۔ (ابن ماجہ: ۳۰۹، یہ حدیث ضعیف ہے)سیدنا عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ((یَا عُمَرُ! لَاتَبُلْ قَائِمًا۔)) … اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کر۔ (ابن ماجہ: ۳۰۸، یہ حدیث بھی ضعیف ہے)
اس باب میں کوئی ایسی صحیح روایت نہیں ہے، جس میں کھڑے ہو پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہو، البتہ بعض موقوف آثار میں اس سے منع کیا گیا ہے۔