الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِلِ قَالَ وَكَانَ أَبُوهُ كَاهِنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِذَا شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.ہصان بن کاہل رحمہ اللہ، جن کے باپ دور جاہلیت میں کہانت کرتے تھے، کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقین دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“