حدیث نمبر: 487
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ سِنِينَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ وَأَنْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ وَأَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَأَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ، وَلْيَغْتَرِفُوا (وَفِي رِوَايَةٍ: وَلْيَغْتَرِفَا) جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حُمید بن عبدالرحمن حِمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار برسوں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف ملا تھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ”ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یا بیوی خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے،“ ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔

وضاحت:
فوائد: … میاں بیوی کا ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے نہانے کا مسئلہ پہلے گزر چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 487
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 81، والنسائي: 1/ 130 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17137»