الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الْبَوْلِ فِيهَا باب: ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاذٌ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ، وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ، فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَتَحْرِقُ أَهْلَ الْبَيْتِ، وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ وَغَلِّقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ)) قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا يَكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ قَالَ: يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی ہرگز بل میں پیشاب نہ کرے، اور جب تم نے سونا ہو تو چراغ کو بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہیا اس کی بتی پکڑ کر گھر والوں کو جلا سکتی ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کر دیا کرو۔“ لوگوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے کہا: ”بل میں پیشاب کرنے کو کیوں ناپسند کیا جاتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کے مسکن ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … بِل میں پیشاب کرنا منع ہے، اس کی ایک وجہ قتادہ نے بیان کی ہے، لیکن درج ذیل دو وجوہات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہیں: اسی بِل سے سانپ، بچھو یا کوئی اور جانور نکل کر بندے کو نقصان نہ پہنچا دے۔ اس بِل میں موجود جانور کو کوئی تکلیف نہ ہو۔