الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي ارْتِيَادِ الْمَكَانِ الرَّخْوِ وَمَا لَا يَجُوزُ التَّخَلِّي فِيهِ باب: قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 483
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ)) قَالُوا: وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ فِي ظِلِّهِمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو لعنت کرنے والی چیزوں سے بچو۔“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ لعنت کرنے والی چیزیں کون سی ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی لوگوں کے راستے میں یا سائے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ تین مقاما ت پر قضائے حاجت نہیں کرنی چاہیے: ایسا سایہ کہ جس کو بطورِ سایہ استعمال کیا جاتا ہو، راستہ اور پانی کا گھاٹ۔ یہ بھی ان احادیث کی فقہ ہے کہ قضائے حاجت کے بعد لیٹرین کی مکمل صفائی کرنی چاہیے، تاکہ بعد میں آنے والے کو تکلیف نہ ہو۔