حدیث نمبر: 48
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا يُونُسُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَةِ فَجَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوهُ وَلَا تُؤَنِّبُوهُ دَعُوهُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاكَ مِنْ مُعَاذٍ يَذْكُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِهِمْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ہصان بن کاہل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالی�? کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقین دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو،“ ہاں میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہے تھے، میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 48
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 3796 وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22348»