الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي طَهَارَةِ الْمُسْلِمِ حَيًّا وَمَيِّتًا باب: مسلمان زندہ ہو یا مردہ، اس کے طاہر ہونے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: ((أَيْنَ كُنْتَ؟)) فَقُلْتُ: لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْلِسَ إِلَيْكَ وَأَنَا جُنُبٌ فَانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ))سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا، جبکہ میں جنابت کی حالت میں تھا، بہرحال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور میں وہاں سے کھسک گیا اور گھر پہنچ کر غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کہاں تھے؟“ میں نے کہا: ”جی آپ مجھے ملے تھے جبکہ میں جنبی تھا اور میں نے اس جنابت والی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کو ناپسند کیا، اس لیے میں نے جا کر غسل کیا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! بیشک مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔“