الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ حَدَّثَنَا هِصَّانُ الْكَاهِنُ الْعَدَوِيُّ قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوتُ لَا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يَرْجِعُ ذَاكُمْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ)) قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُعَاذٍ؟ قَالَ الْقَوْمُ: فَعَنَّفَنِي، فَقَالَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَمْ يُسِئِ الْقَوْلَ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ مُعَاذٍ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.ہصان کاہن عدوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس میں سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہمیں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقین دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“ میں نے کہا: ”کیا تو نے یہ حدیث سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟“ اس بات پر لوگوں نے میری سرزنش کی اور کہا: ”اس کو چھوڑ دو، اس نے کوئی بری بات تو نہیں کہی ہے،“ بہرحال میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی ہے اور ان کا خیال تھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی۔