الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْإِبِلِ باب: اونٹ کے پیشاب کا بیان
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَذِيُّ مِنْ غَيْرِ مَاءِ الْحَيَاةِ، فَلَوْ لَا أَنَّ ابْنَتَهُ تَحْتِي لَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرَّجُلُ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَذِيُّ مِنْ غَيْرِ مَاءِ الْحَيَاةِ، قَالَ: ((يَغْسِلُ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ))سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کرو جو اپنی بیوی کے ساتھ کھیلتا ہے اور اس وجہ سے اس سے ماء الحیاة تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میری بیوی نہ ہوتی تو میں نے خود سوال کر لینا تھا۔“ پس میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایک آدمی اپنی بیوی سے کھیلتا ہے اور اس سے زندگی والا پانی تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا آدمی اپنی شرمگاہ دھو کر نماز والا وضو کر لیا کرے۔“