حدیث نمبر: 454
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذِيِّ شِدَّةً، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الْاِغْتِسَالَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: ((إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ)) فَقُلْتُ: كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي؟ فَقَالَ: ((يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَمْسَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے بڑی مشقت ہوتی تھی اور میں اس کی وجہ سے بہت زیادہ غسل کیا کرتا تھا، ایک دن جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے تو اس سے صرف وضو کافی ہو جائے گا۔“ میں نے کہا: ”جو کپڑے کو لگ جائے، اس کا کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بارے میں تجھے یہ عمل کفایت کرے گا کہ تو پانی کا ایک چلو لے اور کپڑے کے جس جس حصے پر مذی کے لگ جانے کا خیال ہو، اس کو کپڑے کے اس حصے پر مار دے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 454
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 210، والترمذي: 115، وابن ماجه: 506 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15973 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16069»