حدیث نمبر: 453
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُكْلٍ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِذَوْدِ لِقَاحٍ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عکل قبیلے کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ والی اونٹنیوں کا حکم دیا اور فرمایا کہ ”وہ لوگ ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔“

وضاحت:
فوائد: … جانوروں کی دو اقسام ہیں: ماکول اللحم (جن کا گوشت کھایا جاتا ہے)، غیر ماکول اللحم (جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا)۔ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب اور پائخانہ پاک ہے‘ امام محمد نے بھی یہی فتوی دیا ہے، ان کے پاک ہونے کے دلائل درج ذیل ہیں: (۱) مذکورہ بالا حدیث، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کا پیشاب پینے کا حکم دیا۔ (۲)سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوْا فِیْ اَعْطَانِ الْاِبِلِ۔)) … بکریوں کے باڑوـں میں نماز پڑھ لو اور اونٹوں کے باڑوں میں نہ پڑھو۔
(ترمذی:۳۴۸، ابن ماجہ: ۷۶۸)
سیدنا عبد اللہ بن مغفل ؓ کی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نہی کی وجہ یہ بیان کی کہ ان کی طبع میں شیطنت پائی جاتی ہے۔ (ابن ماجہ: ۷۶۹) واضح رہے کہ بکریوں کا باڑہ ان کے پیشاب اور مینگنیوں سے آلودہ ہوگا۔(۳) ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب اور گوبر کو ناپاک قرار دینے پر کوئی واضح روایت دلالت نہیں کرتی۔ (۴) ایک عقلی اور واقعاتی دلیل یہ ہے کہ عصر حاضر میں لوگوں کا عمل حلال جانوروں کے گوبر کے پاک ہونے کی گواہی دیتا ہے‘ کیونکہ گھروں میں گائے اور بھینس کا گوبر جلانے کیلئے بکثرت استعمال ہوتا ہے‘ حتی کہ جس ہاتھ سے گوبر توڑا جاتا ہے اسی ہاتھ سے آٹے کا پیڑا بنا کر روٹی پکائی جاتی ہے‘ کیا گوبر کا یہ استعمال انسان کے پائخانے کے بارے میں ممکن ہے؟امام منذر نے کہا: یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اونٹوں کا یہ پیشاب پینا اِن لوگوں کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ خصوصیت کے لیے دلیل کی ضرورت ہے، (ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب اور گوبر کے پاک ہونے کی) تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اہل علم کے سامنے بازاروں میں بکریوں کے مینگنیاں بکتی رہیں اور اونٹوں کا پیشاب دواؤں میں استعمال ہوتا رہا اور انھوں نے ان امور کو برقرار رکھا۔ (بحوالہ نیل الاوطار: ۱/ ۲۴۷)امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک علاج کیلئے بھی حلال جانوروں کا پیشاب پینا حلال نہیں ہے۔
اَلْمَذِیُّ … مذی کا حکم
مذی: بوسہ یا مداعبت کے باعث بلا ارادہ پیشاب کی نالی سے نکلنے والا پتلا پانی۔
ودی: ایسا سفید اور گدلا پانی جو پیشاب کے بعد اسی نالی سے خارج ہوتا ہے، اس کی کوئی بدبو نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 453
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12667»