الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ باب: بچے اور بچی کے پیشاب کا بیان
حدیث نمبر: 452
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ابْنَةُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ عَبَّاسٍ فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَالَتْ، فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعْطُونِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ)) فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا، ثُمَّ قَالَ: ((اُسْلُكُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا، سیدہ ام حبیبہ بنت عباس رضی اللہ عنہا کو لے کر آئیں اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، پس اس نے پیشاب کر دیا، انہوں نے اس کو کھینچا اور اس کے کندھوں کے درمیان مکا مارا اور پھر اس کو کھینچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانی کا پیالہ دو۔“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کی جگہ پر اس کو بہا دیا اور فرمایا: ”پیشاب کی جگہ پر پانی بہا دیا کرو۔“
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جب تک بچے اور بچی کی غالب خوراک دودھ ہو، ان کے پیشاب سے پاکی حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہوں گے اور وہ اس طرح کہ بچے کے پیشاب پر اس قدر چھینٹے مارے جائیں کہ متاثرہ جگہ ترہو جائے، نچوڑنے کی ضرورت نہیں اور بچی کا پیشاب بڑوں کی طرح دھویا جائے۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اس فرق کے قائل نہیں ہیں، بلکہ وہ بچہ اور بچی دونوں کے پیشاب کو دھونا ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن واضح طور پر فرق کرنے والی احادیث ان کی رائے کو قبول نہیں کرتیں، گزارش یہ ہے کہ کون کون سی چیزیں نجس ہیں، شریعت نے اس چیز کا تعین کیا ہے، اب ان نجاستوں کو زائل کیسے کیا جائے گا، یہ فیصلہ بھی شریعت ہی کرے گی، اگر اس معاملے میں کوئی تخصیص پیدا کر دی جائے تو اس کو ماننا پڑے گا۔