الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ باب: بچے اور بچی کے پیشاب کا بیان
حدیث نمبر: 449
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَكُنِ الصَّبِيُّ بَلَغَ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ يُرَشَّ بَوْلُ الصَّبِيِّ وَيُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِيَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنی گود میں رکھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹے مار دیے، یہ بچہ ابھی تک کھانا کھانے کی عمر تک نہیں پہنچا تھا۔ امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: یہی نبوی طریقہ نافذ ہو گیا کہ بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔