الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ باب: بچے اور بچی کے پیشاب کا بیان
عَنْ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَحْبُو حَتَّى صَعِدَ عَلَى صَدْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: حَتَّى رَأَيْتُ بَوْلَهُ عَلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: فَابْتَدَرْنَا لِنَأْخُذَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ابْنِي ابْنِي)) وَفِي رِوَايَةٍ: ((دَعُوا ابْنِي لَا تُفْزِعُوهُ حَتَّى يَقْضِيَ بَوْلَهُ)) ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِسیدنا ابو لیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ گھسٹتے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر چڑھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، میں نے پیشاب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر دیکھا، پس ہم ان کو پکڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بیٹا، میرا بیٹا۔“ ایک روایت میں ہے: ”میرے بیٹے کو چھوڑ دو اور اس کو مت گھبراہٹ میں ڈالو، یہاں تک کہ یہ پیشاب پورا کر لے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔