حدیث نمبر: 444
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ لُبَابَةَ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تُرْضِعُ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاضْطَجَعَ فِي مَكَانٍ مَرْشُوشٍ فَوَضَعَهُ عَلَى بَطْنِهِ فَبَالَ عَلَى بَطْنِهِ، فَرَأَيْتُ الْبَوْلَ يَسِيلُ عَلَى بَطْنِهِ، فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ لِأَصُبَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أُمَّ الْفَضْلِ! إِنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ يُصَبُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ)) وَقَالَ بَهْزٌ: غَسْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(تیسری سند) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دودھ پلاتی تھیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور چھڑکاؤ کی ہوئی ایک جگہ پر بیٹھ گئے اور ان کو اپنے پیٹ پر رکھ دیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پیشاب کر دیا، پس میں نے دیکھا کہ پیشاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر بہہ رہا تھا، میں ایک مشکیزے کی طرف گئی، تاکہ اس کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہاؤں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام فضل! بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 444
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قوله: يا ام الفضل! ان بول ۔ صحيح، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء الخراساني لم يسمع من ام الفضل، ولم يتبين لنا من ھو ابو عياض ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27414»