الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ باب: بچے اور بچی کے پیشاب کا بیان
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَوَلَدَتْ حَسَنًا فَأُعْطِيتُهُ فَأَرْضَعْتُهُ حَتَّى تَحَرَّكَ، أَوْ فَطَمْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسْتُهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ، فَضَرَبْتْ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: ((ارْفُقِي بِابْنِي رَحِمَكِ اللَّهُ)) وَفِيهِ أَيْضًا قَالَ: ((إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ))(دوسری سند) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور وہ میرے (سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے) حوالے کر دیا گیا، میں نے ان کو دودھ پلایا، یہاں تک کہ بچہ چلنے کا قابل ہو گیا یا (راوی نے کہا) میں نے دودھ چھڑوا دیا، بہرحال پھر میں اس بچے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا دیا اور اس نے وہاں پیشاب کر دیا، میں نے اس کے کندھوں کے درمیان ضرب لگائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، میرے بچے کے ساتھ نرمی کرو۔“ اس حدیث میں یہ بھی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔“