الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْآدَمِيِّ باب: بندے کے پیشاب کا بیان
حدیث نمبر: 440
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَنَا مِسْعَرٌ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ: الْبَوْلُ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَةِ الدَّمِ مَالَمْ يَكُنْ قَدْرَ الدِّرْهَمِ فَلَا بَأْسَ بِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے نزدیک پیشاب جب تک درہم کی مقدار کے برابر نہیں ہو گا، اس وقت تک وہ خون کے قائم مقام ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … امام ابو حنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے، لیکن یہ رائے مرجوح ہے، کیونکہ شریعت نے نجاست سے مطلق طور پر بچنے کا حکم دیا ہے۔
ایک درہم والی روایت اور اس کی حقیقت: سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((تُعَادُ الصَّلَاۃُ مِنْ قَدَرِ الدِّرْھَمِ مِنَ الدَّمِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِذَا کَانَ فِیْ الثَّوْبِ قَدَرُ الدِّرْھَمِ مِنَ الدَّمِ غُسِلَ الثَّوْبُ وَاُعِیْدَتِ الصَّلَاۃُ)) … خون کی ایک درہم کی مقدار کی وجہ سے نماز لوٹائی جائے گی۔ ایک روایت میں ہے: جب کپڑے کو لگا ہوا خون ایک درہم کے بقدر ہو جائے گا تو کپڑے کو دھوکر نماز لوٹائی جائے گی۔ (سنن دارقطنی)
امام بخاری نے کہا: یہ حدیث باطل ہے، امام ابن حبان نے کہا: یہ حدیث بلا شک وشبہ من گھڑے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات بیان نہیں کی، اہل کوفہ نے اس کو گھڑ لیا۔ اس کی سند کا راوی روح بن غطیف، ثقات سے موضوع روایات بیان کرتا تھا۔ (ملاحظہ ہو: نصب الرایۃ: ۱/ ۲۱۲)
ایک درہم والی روایت اور اس کی حقیقت: سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((تُعَادُ الصَّلَاۃُ مِنْ قَدَرِ الدِّرْھَمِ مِنَ الدَّمِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِذَا کَانَ فِیْ الثَّوْبِ قَدَرُ الدِّرْھَمِ مِنَ الدَّمِ غُسِلَ الثَّوْبُ وَاُعِیْدَتِ الصَّلَاۃُ)) … خون کی ایک درہم کی مقدار کی وجہ سے نماز لوٹائی جائے گی۔ ایک روایت میں ہے: جب کپڑے کو لگا ہوا خون ایک درہم کے بقدر ہو جائے گا تو کپڑے کو دھوکر نماز لوٹائی جائے گی۔ (سنن دارقطنی)
امام بخاری نے کہا: یہ حدیث باطل ہے، امام ابن حبان نے کہا: یہ حدیث بلا شک وشبہ من گھڑے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات بیان نہیں کی، اہل کوفہ نے اس کو گھڑ لیا۔ اس کی سند کا راوی روح بن غطیف، ثقات سے موضوع روایات بیان کرتا تھا۔ (ملاحظہ ہو: نصب الرایۃ: ۱/ ۲۱۲)