حدیث نمبر: 4366
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدِي فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ لِي: ((صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دَخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ، فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ کے اندر داخل ہوکر نماز پڑھوں، لیکن ہوا یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے حطیم کے اندر داخل کر کے مجھ سے فرمایا: اگر تم بیت اللہ کے اندر جانا چاہتی ہو تو یہاں نماز پڑھ لو، کیونکہ یہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے، لیکن چونکہ تمہاری قوم قریش کعبہ کی تعمیر کے وقت ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کرنے سے قاصر رہی، اس لیے انہوں نے اتنا حصہ بیت اللہ سے نکال دیا۔

وضاحت:
فوائد: … اصولِ فقہ کا ایک قانون ہے، جس کو دو طرح سے تعبیر کیا گیا ہے: ’’یُدْفَعُ اَشَدُّ الضَّرَرَیْنِ بِتَحَمُّلِ اَخَفِّھِمَا‘‘ (چھوٹے ضرر کو اختیار کر کے بڑے ضرر سے بچا جائے گا)’’دَفْعُ اَعْظَمِ الْمَفْسَدَتَیْنِ بِاحْتِمَالِ اَدْنَاھُمَا‘‘ (چھوٹی مفسدت کو اختیار کر کے بڑی مفسدت سے بچا جائے گا)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث ِ مبارکہ سے بھییہی قانون ثابت ہے کہ ایک طرف قریب الاسلام لوگوں کے متنفر ہو جانے کی متوقع مفسدت ہے اور دوسری طرف کعبہ کو نامکمل حالت میں باقی چھوڑنے کی مفسدت ہے، بڑی مفسدت لوگوں کا متنفر ہونا ہے، اس لیے اس سے بچنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کی عمارت کو جوں کا توں رہنے دیا۔ اس کو مصلحت اور حکمت کہتے ہیں، لیکن قارئین کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ عام آدمی اس مصلحت و مفسدت کا فیصلہ نہیں کرسکتا، یہ فیصلہ کرنے کے لیے علم شریعت میں رسوخ پیدا کرنے کے بعد اس کے مقاصد کو جاننا ضروری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4366
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2028، والترمذي: 876، والنسائي: 5/219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25123»