حدیث نمبر: 4365
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ، اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ لَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ)) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِرَادَةً أَنْ تَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ مِنْ وَرَاءِ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ جب تمہاری قوم قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کی تو وہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر اس کی تعمیر کرنے سے عاجز رہ گئے تھے ؟ میں نے عرض کیا : تو کیا آپ اسے ابراہیمی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر نہیں کر دیتے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو ایسا کر دینا تھا ۔‘‘ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ چونکہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر نہیں ہوا تھا ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حطیم کی جانب بیت اللہ کے دو کونوں کا استلام نہیں کیا ، اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ ہو گا کہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے وقت ابراہیمی بنیادوں والے مکمل بیت اللہ کا چکر پورا کریں ۔

وضاحت:
فوائد: … ہر چیز میں اللہ تعالی کی کوئی نہ کوئی حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ حطیم، کعبۃ اللہ کا حصہ ہے، جو آدمی کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا خواہش مند ہو، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا، تو وہ حطیم میں پڑھ لے، کعبہ کی موجودہ عمارت میں داخل ہونے کا اعزاز تو صرف حکمران طبقے کے لیے مخصوص ہو گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4365
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1584، ومسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25338»