الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ الطَّائِفِ يَخْرُجُ فِي طَوَافِهِ عَنِ الْحِجْرِ لِيَكُونَ طَائِفًا بِالْبَيْتِ كُلِّهِ مِنْ وَرَاءِ باب: اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی¤بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
حدیث نمبر: 4364
عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا قدامہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اونٹنی پر سوار تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کا استلام کررہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حطیم، کعبہ کا حصہ ہے، اس لیے طواف کے دوران حطیم کے باہر سے چکر لگانا چاہیے۔ اب اس حصے پر چار پانچ فٹ اونچی اور تین چار فٹ چوڑی دیوار موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حطیم کی جانب والے بیت اللہ کے دو کونوں کا استلام نہ کرنا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اس کی جو وجہ بیانکی ہے، یہ ان کا ذاتی فہم اور فقہ ہے، وگرنہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تعمیرِ کعبہ کے بارے میں ہدایات دی تھیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دوکونوں کے استلام کے مسئلے کی وضاحت بھی کر دینی تھی۔ اخراجات کی کمی کی وجہ سے قریشی پوری عمارت تعمیر نہ کر سکے تھے۔