الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرِهِ وَغَيْرِهِ وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِحَاجَةٍ) باب: اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ¤کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 4363
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کااستلام کررہے تھے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں یہ زیادتی ہے: وَیُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ۔ … اور لاٹھی کو بوسہ دیتے تھے۔
سیدنا قدامہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اونٹنی پر سوار تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کا استلام کررہے تھے۔
فوائد: … سواری پر طواف اور سعی کرنے کی مزید روایات اور اس کی وجوہات:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ((طَافَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْکَعْبَۃِ عَلٰی بَعِیْرِہٖیَسْتَلِمُ الرُّکْنَ کَرَاھِیَۃَ اَنْ یُضْرَبَ عَنْہُ النَّاسُ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر کعبہ کے ارد گرد اپنے اونٹ پر طواف کیا، وہیں سے حجر اسود کا استلام کر لیتے، (سوار ہونے کی وجہ یہ تھی کہ) آپ ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کرنے کے لیے مارا جائے۔ (صحیح مسلم)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((طَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖبِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِیَرَاہُ النَّاسُ وَلِیُشْرِفَ وَلِیَسْأَلُوْہُ فَاِنَّ النَّاسَ غَشُوْہُ)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی سواری پر اس لیے کی تھی تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو اوپر سے دیکھ سکیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر سکیں، بات یہ تھی کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجوم کیا ہوا تھا۔ (ابوداود، نسائی)
ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے سواری پر طواف اور سعی کی جا سکتی ہے، نیز جو امام لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہو یا لوگ جس کی اقتدا کر رہے ہوں یا اس کو اپنی طرف لوگوں کے ہجوم کا خطرہ ہو تو ایسا امام طواف اور سعی کے دوران سوار ہو سکتا ہے۔
سیدنا قدامہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اونٹنی پر سوار تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کا استلام کررہے تھے۔
فوائد: … سواری پر طواف اور سعی کرنے کی مزید روایات اور اس کی وجوہات:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ((طَافَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْکَعْبَۃِ عَلٰی بَعِیْرِہٖیَسْتَلِمُ الرُّکْنَ کَرَاھِیَۃَ اَنْ یُضْرَبَ عَنْہُ النَّاسُ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر کعبہ کے ارد گرد اپنے اونٹ پر طواف کیا، وہیں سے حجر اسود کا استلام کر لیتے، (سوار ہونے کی وجہ یہ تھی کہ) آپ ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کرنے کے لیے مارا جائے۔ (صحیح مسلم)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((طَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖبِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِیَرَاہُ النَّاسُ وَلِیُشْرِفَ وَلِیَسْأَلُوْہُ فَاِنَّ النَّاسَ غَشُوْہُ)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی سواری پر اس لیے کی تھی تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو اوپر سے دیکھ سکیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر سکیں، بات یہ تھی کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجوم کیا ہوا تھا۔ (ابوداود، نسائی)
ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے سواری پر طواف اور سعی کی جا سکتی ہے، نیز جو امام لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہو یا لوگ جس کی اقتدا کر رہے ہوں یا اس کو اپنی طرف لوگوں کے ہجوم کا خطرہ ہو تو ایسا امام طواف اور سعی کے دوران سوار ہو سکتا ہے۔