حدیث نمبر: 4359
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ:) وَأَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ: ((اسْقُونِي)) فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: ((لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) یہ حدیث دوسری سندسے بھی اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف کے بعد وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلاؤ۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیں ہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع، عدم تکلف، سادگی اور حسن اخلاق کا ایک انداز تھا کہ جو چیز عام لوگ استعمال کر رہے ہیں، اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کیلئے ترجیح دی، جبکہ صاف پانی مہیا کرنے والے لوگ موجود تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول۔ أخرجه البخاري: 1635 بلفظ: عن ابن عباس: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم جاء الي السقاية فاستسقي،فقال العباس: يا فضل! اذھب الي امك فأت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم بشراب من عندھا، فقال: ((اسقني۔)) قال: يا رسول الله! انھم يجعلون ايديھم فيه، قال: ((اسقني۔)) فشرب منه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1841»