الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ اسْتِلَامِ الْأَرْكَانِ كُلِّهَا باب: بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَطَافَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَاسْتَلَمَ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِنَّمَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ، قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: النَّاسُ يَخْتَلِفُونَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، يَقُولُونَ: مُعَاوِيَةُ هُوَ الَّذِي قَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبَيْتِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ وَلَكِنَّهُ حَفِظَهُ مِنْ قَتَادَةَ هَكَذَا۔ ابوطفیل کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں مکہ مکرمہ آئے، سیدنا ا بن عباس رضی اللہ عنہ نے طواف کیا اور انہوں نے بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف یمنی کونوں کا استلام کیا ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بیت اللہ کا کوئی بھی حصہ چھوڑا ہوا نہیں ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: راویوں نے اس حدیث کو مختلف اندازوں میں بیان کیا ہے،وہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی تھی کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی چھوڑا نہیں جا سکتا، لیکن انھوں نے قتادہ سے یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی ہے۔
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ یہ نقطہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بسا اوقات ہمارے فہم کے تقاضے اور ہوتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے تقاضے اور ہوتے ہیں، کعبۃ اللہ کے چار کونے ہیں، ایک کونے میں حجر اسود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے چار طریقوں سے اس کا استلام کرنے کو مشروع قرار دیا، جبکہ رکن یمانی کو حسب ِ امکان صرف مسّ کرنے کا حکم دیا اور باقی دو کونوں کو بالکل چھوڑ دیا، اب اگر کوئی آدمی رکن یمانی کو بوسہ دینا شروع کر دے یا دوسرے دو کونوں کا استلام بھی شروع کر دے تو اسے وہی بات کہی جائے گی، جو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہی تھی اور انھوں نے جواباً ان کی تصدیق کی تھی۔ اب بھی دورانِ طواف کئی لوگ درج ذیل امور کی پابندی کرتے ہیں، جبکہ یہ تمام امور خلافِ شرع ہیں: حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے ہاتھوں کو چومنا، رکن یمانیکو چومنا یا اس رکن کی طرف اشارہ کرنا، دورانِ طواف بآواز بلند اجتماعی ذکر کرنا، ہر چکر کے لیے مخصوص اذکار کا اہتمام کرنا، رکن یمانی کو چھونے اور حجر اسود کو بوسہ دینے اور ملتزم تک پہنچنے کے لیے خوب دھکم پیل کرنا، لوگوں کے پاؤں مسلنا اور غیرمحرم عورتوں کے جسموں سے رگڑ کھا کر جانا۔