حدیث نمبر: 4355
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: ((يَا عُمَرُ إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيٌّ لَا تُزَاحِمْ عَلَى الْحَجَرِ فَتُؤْذِيَ الضَّعِيفَ، إِنْ وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْهُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ فَهَلِّلْ وَكَبِّرْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عمر! تم قوی آدمی ہو، اس لیے تم حجراسود پر ہجوم کرکے کمزوروں کو تکلیف نہ پہنچانا،اگر جگہ مل جائے تو استلام کرلینا، وگرنہ اس کی طرف رخ کرکے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ لینا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ اسلام کا ایک سنہری اصول ہے کہ کسی مستحبّ اور افضل چیز پر عمل کرنے کے لیے کسی مسلمان کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے، حجرِ اسود کو بوسہ دینا کتنا عظیم عمل ہے، لیکن اس عظمت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ بیسیوں مسلمانوں کی تکلیف کا باعث بنا جائے۔ آج کل لوگ یہ بوسہ دینے اور ملتزم تک پہنچنے کے لیے غیر محرم عورتوں کے تقدس کو بھی بھول جاتے ہیں اور کوئی لوگوں کو دھکے دیتے ہوئے، کئیوں کے پاؤں کو مسلتے ہوئے اور کئی عورتوں کے جسموں کے ساتھ رگڑ کھاتے ہوئے یہ فضیلت حاصل کرنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4355
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه البيھقي: 5/ 80، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 190»