الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِي اسْتِلَامِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ ذَلِكَ وَمَا يُفْعَلُ مِنْ زُوحِمَ باب: حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
حدیث نمبر: 4353
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكَبَّ عَلَى الرُّكْنِ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْ لَمْ أَرَ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ وَاسْتَلَمَكَ، مَا اسْتَلَمْتُكَ وَلَا قَبَّلْتُكَ، {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حجراسود کے اوپرجھکے اور کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے اور تیرا استلام کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی نہ تیرا استلام کرتا اور نہ تجھے بوسہ دیتا۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اِنِّیْ اَعْلَمُ اَنَّکَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا اَنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ۔))سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مناسبت سے یہ وضاحت کی تھی کہ لوگوں نے کچھ عرصہ پہلے ہی بتوں کی پوجاپات چھوڑی تھی، اس لیے ممکن تھا کہ حجر اسود کے استلام سے ان کو یہ شبہ ہونے لگ جاتا کہ اسلام میں بھی پتھروں کی تعظیم کی جاتی ہے، جیسا کہ دورِ جاہلیت میںعرب لوگ کرتے تھے، سو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واضح کر دیا کہ اس پتھر کا نفع و نقصان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی جا رہی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ امورِ دین میں شارع علیہ السلام کی پیروی کی جائے، اگرچہ ان امور کی حکمتوں اور معنوں کو ہم نہ سمجھ سکیں۔