حدیث نمبر: 4344
عَنْ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو (يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: فَأَنْشُدُ بِاللَّهِ ثَلَاثًا وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ((إِنَّ الرُّكْنَ وَالْمَقَامَ (وَفِي لَفْظٍ إِنَّ الْحَجَرَ وَالْمَقَامَ) يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، طَمَسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نُورَهُمَا، وَلَوْ لَا أَنَّ اللَّهَ طَمَسَ نُورَهُمَا لَأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ (وَفِي لَفْظٍ: مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مُسافع بن شیبہ کہتے ہیں: سیدناعبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تین بار اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں، پھر انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال دیں اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے : حجراسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالی نے ان کانور ختم کردیا ہے، اگر اللہ نے ان کا نور ختم نہ کیا ہوتا تو ان کی چمک سے مشرق ومغرب کے درمیان والا حصہ منور ہوجاتا،ایک روایت میں ہے: زمین وآسمان کے درمیان والا خلا منور ہوجاتا۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث میں حجر اسود اور رکن یمانی کی فضیلت کا بیان ہے۔درج ذیل حدیث ضعیف ہے: ((اِنَّ الْحَجَرَ یَمِیْنُ اللّٰہِ فِیْ الْاَرْضِ یُصَافِحُ بِھَا خَلْقَہٗ۔)) … ’’بیشک حجر اسود زمین میں اللہ تعالی کا دایاں ہاتھ ہے، وہ اس کے ساتھ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے۔‘‘ (معجم اوسط: ۱/ ۱۷۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4344
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، والاصح وقفه، رجاء ابو يحيي ليس بقوي ۔ أخرجه الترمذي: 878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7000»