حدیث نمبر: 4341
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حجر اسود جنت سے ہے، (جب اس کو جنت سے اتارا گیا تھا تو) اس وقت یہ برف سے زیادہ سفید تھا، لیکن اب مشرکین کے گناہوں نے سیاہ کردیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبدا للہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْلَا مَامَسَّہٗمِنْاَنْجَاسِالْجَاھِلِیَّۃِ، مَامَسَّہٗذُوْعَاھَۃٍ إِلَّا شُفِيَ، وَمَا عَلَی الْاَرْضِ شَيْئٌ مِنَ الْجَنَّۃِ غَیْرَہٗ۔)) … ’’اگر اس (حجر اسود) کو جاہلیت کی نجاستوں نے نہ چھوا ہوتا تو اسے مسّ کرنے سے کسی بھی تکلیف والے آدمی کی تکلیف دور ہو جاتی، اس پتھر کے علاوہ زمین میں جنت کی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ (سنن بیہقی: ۵/ ۷۵، صحیحہ: ۳۳۵۵)
معلوم ہوا کہ جنتی چیزیں بابرکت ہوتی ہے اور ان کو چھونے سے شفا ملتی ہے۔ نیز گناہوں کی نحوست اور بے برکتی دیکھیں کہ جنت سے اتارا جانے والا پتھر بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ معلوم نہیں کہ خطاؤں کی نحوست گنہگاروں سے کیا سلوک کرے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4341
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح (صحيحه:2618)۔ أخرجه النسائي: 5/ 226، والترمذي: 877، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3537»