الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي تَطْهِيرِ آنِيَةِ الْكُفَّارِ وَجَوَازِ اسْتِعْمَالِهَا بَعْدَ غَسْلِهَا باب: کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 434
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْتَسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور مشرکوں سے حاصل شدہ غنیمتوں میں مشکیزے اور برتن بھی ہمیں مل جاتے تھے لیکن ہم ان کو تقسیم کر لیتے تھے، جبکہ وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کافروں کے ذبح کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا تھا۔لیکن مالِ غنیمت یا اس قسم کے دیگر مالوں کے بارے میں ہماری شریعت کا قانون یہ ہے کہ جب تک چیز کے حرام ہونے کی واضح دلیل نہیں ہو گی، اس وقت تک اس کو پاک اور جائز ہی سمجھا جائے گا، مشکیزوں کے بارے میں یہ احتمالات اور امکانات موجود ہیں کہ انھوں نے ان کو رنگا ہو یا اہل کتاب کے علاقوں سے منگوایا ہو یا وہ جانور اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا ہو۔