حدیث نمبر: 4338
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ مَسْحَ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ وَالرُّكْنِ الْأَسْوَدِ يَحُطُّ الْخَطَايَا حَطًّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رکن یمانی اور حجر اسود کو چھونا غلطیوں کو مٹا دینا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … حجر اسود کو استلام کرنے کے چار طریقے ہیں: (۱) اسے بوسہ دینا، (۲)اپنے ہاتھ کے ساتھ حجر اسود کو چھو کر ہاتھ کا بوسہ لینا، (۳)کسی چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کو چھونا اور پھر چھڑی کو بوسہ دینا اور اگر یہ تمام صورتیں ناممکن ہوں تو (۴) دور سے اس کی طرف منہ کر کے صرف اشارہ کرنا۔ رہا مسئلہ رکن یمانی کا، تو حسب ِ امکان اسے صرف ہاتھ سے مسّ کرنا مشروع ہے، اگر چھونا ناممکن یا زیادہ بامشقت ہو تو طواف کرنے والا اس کی طرف اشارہ کیےیا متوجہ ہوئے بغیر وہاں سے گزر جائے گا، اس کونے کا بوسہ لینایا اس کی طرف اشارہ کرنا غیر مشروع ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4338
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه الترمذي: 959، والنسائي: 5/221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5621»