حدیث نمبر: 4337
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: فِيمَ الرَّمَلَانُ الْآنَ وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، وَمَعَ ذَلِكَ لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اب دورانِ طواف رمل اور کندھوں کو ننگا کرنے کا کیا مقصد ہے؟ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ دے دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کو ختم کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اس عمل کو ترک نہیں کریں گے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں کیا کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ رمل اور اضطباع کا سبب وہ مشرک تھے، جو عمرۂ جعرانہ کے موقع پر حطیم کی طرف بیٹھے تھے اور جن کا نظریہیہ تھا کہ یثرب کے بخار نے مسلمانوں کو کمزور اور لاغر کر دیا ہے، ان کے اس تصور کو ردّ کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل اور اضطباع کا حکم دیا تھا، غلبۂ اسلام کے بعد سرے سے یہ سبب ہی ختم ہو چکا تھا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو عمل کر دیا ہے، اس کو بحال رکھا جائے، اگرچہ اس کا سبب ختم ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4337
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1887،و ابن ماجه: 2952، وأخرجه بنحوه البخاري: 1605 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 317»