حدیث نمبر: 4332
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَرْمُلُ ثَلَاثًا وَيَمْشِي أَرْبَعًا وَيَزْعُمُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ وَكَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَهُمَا لَيَكُونَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور باقی چکروں میں عام رفتار چلتے اور یہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایسے ہی کیاکرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ رکن یمانی اور حجر اسود کے مابین عام رفتا ر سے چلا کرتے تھے، جناب نافع نے کہا: وہ ان دو کے درمیان اس لیے چلتے تھے، تاکہ حجر اسود کا استلام کرنے میں آسانی ہو۔

وضاحت:
فوائد: … امام نافع کے نزدیک رکن یمانی سے حجر اسود تک عام چال چلنے کی وجہ حجر اسود کا استلام کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے، یہ جنابِ نافع کا ذاتی فہم ہے، یہاں عام چال چلنے کی وجہ مشرکوں سے اوجھل ہو جانا تھا، جیسا کہ اس باب کی پہلی حدیث میں وضاحت ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4332
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1617، ومسلم: 1261 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4618»