حدیث نمبر: 4328
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ بِالْبَيْتِ إِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ مَشَى حَتَّى يَأْتِيَ الْحَجَرَ ثُمَّ يَرْمُلُ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَتْ سُنَّةً، (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابوطفیل سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا، جب آپ رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو حجر اسود تک عام رفتار سے چلتے، اس کے بعد پھر رمل کرتے اور باقی چار چکروں میں آپ عام رفتار سے چلے۔پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس طرح یہ رمل سنت ہے اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ تھا۔

وضاحت:
فوائد: … جن اسباب کی بنا پر رمل کی ابتداء ہوئی تھی، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر مفقود تھے، لیکن رمل کا حکم مستقل سنت کی حیثیت اختیار کر جانے کی وجہ سے باقی رہے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4328
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2220»