حدیث نمبر: 4320
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقِ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْإِذْخِرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر اذخر گھاس والی گھاٹی کی طرف سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔

وضاحت:
فوائد: … اذخر گھاس والی گھاٹی سے مراد ’’ثنیۂ علیا‘‘ ہی ہے۔ امام نووی نے کہا: صحیح اور پسندیدہ مذہب یہ ہے کہ ہر محرِم کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت ثنیۂ علیا والی جہت سے آئے، اگر یہ گھاٹی اس کے راستے میں نہیں پڑتی تو پھر بھی اسے اُدھر سے ہی آنا چاہیے، ہمارے محققین کییہی رائے ہے۔ (شرح المہذب) بلکہ شیخ محمد جوینی نے کہا: یہ گھاٹی مدینہ سے مکہ کے راستے پر نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان بوجھ کر اصل راستے کو چھوڑ کر یہ جہت اختیار کی، اس لیے ہر آدمی کے اِس گھاٹی کی طرف سے آنا مستحبّ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت بالائی جہت والا راستہ کیوں اختیار کیا اور پھر واپسی پر راستہ بدلنے میں کیا حکمت ہے؟ اس کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: راستہ بدلنے کی وجہ تو یہ ہے کہ دونوں راستوں
والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تبرّک حاصل کریں گے، جیسا عیدین کے لیے آنے جانے کا مسئلہ تھا، اور تشریف آوری کے وقت بالائی جہت سے آنے میں حکمت یہ ہے کہ اس طرح سے آنے میں جگہ کی تعظیم ہوتی ہے اور نچلی جانب کی جہت سے نکل جانے میں اس جگہ سے جدا ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اس بالائی جہت سے داخل ہوئے تھے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کے موقع پر اس شہر سے چھپ کر نکلے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار چاہا کہ شہر کی بالائی جانب سے اور کھلم کھلا اور اعلانیہ طور پر داخل ہوا جائے، ایک قول یہ ہے کہ اس طرف سے آمد کی وجہ آدمی کا بیت اللہ کے سامنے رہنا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر اس جہت سے داخل ہوئے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی عمل کو برقرار رکھنا چاہا ہو اور اس کا سبب ابو سفیان کا یہ قول ہے، جو انھوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: میں اس وقت تک مسلمان نہیں ہوں گا، جب تک گھوڑوں کو کداء سے آتا ہوا نہیں دیکھ لوں گا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیسی بات ہوئی؟ انھوں نے کہا: بس میرے دل میں یہ خیال آ گیا ہے اور اللہ تعالی اِدھر سے کبھی بھی گھوڑوں کو نہیں لائے گا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تو میں نے ابو سفیان کو ان کی بات یاد کرائی، جبکہ سنن بیہقی کی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’حسان نے کیسے کہا تھا؟‘‘ انھوں نے جواباً یہ شعر پڑھا: عُدِمَتْ بِنْیَتِیْ اِنْ لَّمْ تَرَوْھَا
تُثِیْرُ النَّقْعَ مَطْلَعُھَا کَدَائٗ
یہ سن کر آپ مسکرائے اور فرمایا: ((اُدْخُلُوْھَا مِنْ حَیْثُ قَالَ حَسَّانُ۔)) … ’’وہاں سے داخل ہو، جہاں سے حسان نے کہا تھا۔‘‘ (فتح الباری: ۳/ ۵۵۹)
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ بالائی جہت سے آنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد اچھی فال تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا وہ غالب آ گیا، اب اس خطۂ زمین میں دشمنان اسلام اور ان کا نظام پست ہو گیا ہے اور اوپر سے آنے اور نیچے کو نکل جانے میں یہ اشارہ ہے کہ اس خطے کی ہر طرف یہ نظام مصطفی چھا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4320
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن ابي زياد القداح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26768»