الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي الْغُسْلِ لِدُخُولِ مَكَّةَ باب: مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
حدیث نمبر: 4317
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَبِيتُ بِذِي طُوًى فَإِذَا أَصْبَحَ اغْتَسَلَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَغْتَسِلُوا وَيَدْخُلُ مِنَ الْعُلْيَا، فَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ السُّفْلَى، وَيَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ذی طویٰ میں رات بسر کرتے، صبح ہوتی تو غسل کرتے اور جو لوگ ان کے ساتھ ہوتے انہیں بھی غسل کرنے کا حکم دیتے اور ثنیۂ علیا کی جانب سے مکہ میں داخل ہوتے، لیکن جب مکہ سے باہر جانا ہوتا تو ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے جاتے، پھر وہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ثنیۂ علیا سے مراد بالائی گھاٹی ہے، جس سے آدمی اہل مکہ کے قبرستان ’’المُعَلّٰی‘‘ کے دروازے پر جا نکلتا تھا، اس کو حجون بھی کہتے تھے، یہ انتہائی دشوار گزار گھاٹی تھی، بالترتیب سیدنا معاویہ، عبد الملک اور مہدی نے اس کو کچھ ہموار بنا کر آسان کیا، پھر۸۱۱ھ میں اس کو کچھ اور ہموار کیا گیا، بعد ازاں۸۲۰ ھـ ملک مؤید نے اس ساری گھاٹی کو ہموار کر دیا تھا۔ ثنیۂ سفلٰی،یہ گھاٹی باب شبکہ کے پاس ہے، جو شعب ِ شامیین اور شعب ِ ابن الزبیر کے قریب ہے۔