الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي الْغُسْلِ لِدُخُولِ مَكَّةَ باب: مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ أَمْسَكَ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فَإِذَا انْتَهَى إِلَى ذِي طُوًى بَاتَ فِيهِ حَتَّى يُصْبِحَ، ثُمَّ يُصَلِّي الْغَدَاةَ وَيَغْتَسِلُ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ ضُحًى فَيَأْتِي الْبَيْتَ ضُحًى فَيَأْتِي الْبَيْتَ فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَرْمُلُ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ، يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، فَإِذَا أَتَى عَلَى الْحَجَرِ اسْتَلَمَهُ وَكَبَّرَ، أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ مَشْيًا ثُمَّ يَأْتِي الْمَقَامَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَسْتَلِمُهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الْأَعْظَمِ فَيَقُومُ عَلَيْهِ فَيُكَبِّرُ سَبْعَ مِرَارٍ، ثَلَاثًا يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب حرم کے قریب پہنچتے تو تلبیہ پکار نا بند کردیتے اور جب ذی طوی میں پہنچتے تو رات وہاں بسر کرتے، جب صبح ہوجاتی تو نمازِ فجر کے بعد غسل کرتے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے، اس کے بعد چاشت کے وقت مکہ میں داخلہ ہوتے، بیت اللہ میں جاکر حجر اسود کو استلام کرتے اور کہتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، پھر طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتا ر سے چلتے، جب حجر اسود کے قریب آتے تو اس کا استلام کرتے اور اَاللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔ باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلتے، بعد ازاں مقامِ ابراہیم کے پاس آکر دو رکعت اداکرتے، اس کے بعد پھر حجر اسود کے پاس آکر اس کا استلام کرتے، پھر بڑے دروازے کے راستہ سے صفا کی طرف جاتے، اس کے اوپر کھڑے ہوکر سات دفعہ تکبیر کہتے، ان میں سے تین بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور یہ دعا پڑھتے: لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیرٌ۔
ذو طوی: مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
رمل: چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اور کندھے ہلاتے ہوئے ہلکی ہلکی دوڑ لگانا ’’رمل‘‘ کہلاتا ہے۔ صرف طوافِ عمرہ یا طوافِ قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا جاتا ہے۔
’’سات دفعہ تکبیر کہتے‘‘ ان الفاظ کا مفہوم ایک تو وہ ہو سکتا ہے جو ترجمہ سے واضح ہے اور ایکیہ ہے کہ صفا اور مروہ کے سات چکروں میں سے ہر ایک چکر میں اللہ کی بڑھائی بیان کرتے اور پھر آگے ہر چکر میں کن الفاظ کے ساتھ یہ بڑھائی بیان کی جائے، اس کی وضاحت ہے۔ یعنی تین دفعہ اللہ اکبر اور بعد میں وہ پورے الفاظ جو حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ مفصل روایات میں یہ دوسری کیفیت میں تکبیرات اور توحید کا اظہار کرنے کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب (عبداللہ رفیق)