حدیث نمبر: 4304
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا أَوْطَأَ بَعِيرَهُ أُدْحِيَّ نَعَامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَكَسَرَ بَيْضَهَا، فَانْطَلَقَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ جَنِينُ نَاقَةٍ أَوْ ضِرَابُ نَاقَةٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ قَالَ عَلِيٌّ بِمَا سَمِعْتَ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ صَوْمٌ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ایک انصاری آدمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کے اونٹ نے شتر مرغ کے انڈے توڑ ڈالے، جبکہ اس پر سوار آدمی احرام کی حالت میں تھا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تو ہر انڈے کے عوض اونٹنی کا ایک جنین (یعنی بچہ) بطور فدیہ ادا کر، اس کے بعد وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم علی کی بات تو سن چکے ہو، لیکن اب رخصت اور آسانی کی طرف آؤ اور وہ یہ کہ تم ہر انڈے کے بدلے ایک روزہ رکھ لو یا ایک مسکین کو کھانا کھلاؤ۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَہٗمِنْکُمْمُّّتَعَمِّدًافَجَزَآئٌمِّثْلُمَاقَتَلَمِنَالنَّعَمِیَحْکُمُ بِہٖذَوَاعَدْلٍمِّنْکُمْھَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذَالِکَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ} … ’’اےایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت ِ احرام میں ہو، اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہو گا، جو کہ مساوی ہو گا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کر دیں، خواہ وہ فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے اور خواہ کفارہ مساکین کو دے دیا جائے اور خواہ اس کے برابر روزے رکھ لیے جائیں تاکہ اپنے کیے کی شامت کا مزہ چکھے۔‘‘ (سورۂ مائدہ: ۹۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ’’ضَبُع‘‘ کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُوَ صَیْدٌ وَیُجْعَلُ فِیْہِ کَبْشٌ اِذَا صَادَہُ الْمُحْرِمُ۔)) … یہ واقعی شکا ر ہے اور جب محرِم اس کا شکار کرے گا تو اس میں (بطورِ فدیہ) دنبے کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘ (ابو داود: ۳۸۰۱، ترمذی: ۸۵۱، نسائی: ۲۸۳۶، ابن ماجہ: ۳۰۸۵)’’ضَبُع‘‘ کو فارسی میں کفتار کہتے ہیں،یہ وہ جانور ہے جو تازہ قبریں اکھاڑتا ہے، کیونکہیہ بندوں کا گوشت کھانے کا بڑا شوقین ہوتا ہے، اگر تصویر والی لغت دیکھ لی جائے تو بہتر ہو گا۔آیت ِ کریمہ میں مساوی جانور سے مراد خلقت یعنی قد و قامت میں مساوی ہونا ہے، قیمت میں مساوی ہونا نہیں، مثلا اگر ہرن کو قتل کیا ہے تو اس کی مساوی بکری ہے، نیل گائے کی مثل گائے ہے، وغیرہ، ایسے متبادل جانور کو حرم میں لے جا کر ذبح کر کے وہاں کے مسکینوں میں اس کا گوشت تقسیم کر دیا جائے۔ البتہ جس جانور کا مثل نہ مل سکتا ہو، وہاں اس کی قیمت بطورِ فدیہ لے کر مکہ پہنچا دی جائے گی اور اس سے غلہ خرید کر مکہ کے مساکین میں تقسیم کر دیا جائے گا، یہاں کعبہ اور مکہ سے مراد حرم ہے۔مساکین کو کھانا کھلانا یا اس کے برابر روزے رکھنا، دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کرناجائز ہے، مقتول جانور کے حساب سے طعام میں جس طرح کمی بیشی ہو گی، روزوں میں بھی کمی بیشی ہو گی، مثلا محرِم نے ہرن قتل کر دیا، اس کی مثل بکری ہے، یہ فدیہ حرم مکہ میں ذبح کیا جائے گا، اگر یہ نہ ملے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ایک قول کے مطابق چھ مساکین کو کھانا یا تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے، اگر اس نے بارہ سنگھا، سانبھر یا اس جیسا کوئی جانور قتل کر دیا تو اس کی مثل گائے ہے، اگر یہ دستیاب نہ ہو یا اس کی طاقت نہ ہو تو بیس مسکین کو کھانا یا بیس دن کے روزے رکھنا ہوں گے، یا ایسا جانور (شتر مرغ یا گورخر وغیرہ) قتل کیا ہے، جس کی مثل اونٹ ہے تو اس کی عدم دستیابی کی صورت میں۳۰ مساکین کو کھانا یا۳۰ روزے رکھنے ہوں گے۔ (ابن کثیر)
حدیث نمبر (۴۲۷۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جب سیدنا کعب بن عجرہ نے احرام کی حالت میں سر منڈوا لیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جو فدیہ بتلایا تھا، اس کی تفصیلیہ تھی: وہ تین روزے رکھے یا چھ مساکین کو تین صاع کھانا کھلائے یا ایک بکری ذبح کر دے۔ اس حدیث سے اس حقیقت کا اشارہ سا ملتا ہے کہ ایک صاع کے بدلے ایک روزہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
جَوَازُ اَکْلِ صَیْدِ الْبَحْرِ مُطْلَقًا لِلْمُحْرِمِ وَغَیْرِہٖ وَمَا جَائَ فِیْ الْجَرَادِ، وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ}
محرم اور غیر محرم کے لیے مطلق طور پر سمندری شکار کو کھانے کا اور اس سلسلے میں ٹڈی کے حکم اور اللہ تعالی کے اس فرمان
{اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ} کا بیان
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4304
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، مطر بن طھمان الوراق كثير الخطأ ليس بذاك القوي، وقد اضطرب في اسناده۔ أخرجه ابوداود في ’’المراسيل‘‘: 139، والبيھقي: 5/ 207، والدار قطني: 2/ 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20582 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20858»