الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِي جَوَازِ أَكْلِ صَيْدِ الْبَرِّ إِذَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ باب: اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو¤اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
حدیث نمبر: 4303
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شکار کا گوشت پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نہ کھایا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ محرِم شکار کا گوشت اس وقت کھا سکتا ہے جب نہ تو اس نے خود شکار کیا گیا ہو اور نہ اس کو کھلانے کی نیت سے کیا گیا ہو۔ اس کی صورت یہ ہے کسی غیر محرِم آدمی نے اپنے لیےیا دوسرے غیر محرِم افراد کے لیے شکار کیا ہو، لیکن اتفاقی طور پر محرِم تک بھی وہ گوشت پہنچ گیا تو اسے چاہیے کہ وہ کھا لے۔
جَزَائُ الصَّیْدِ وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا
لَاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ … الاٰیۃ}
شکار کا متبادل اور اس آیت ِ کریمہ کی تفسیر:{یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا … اَنْتُمْ حُرُمٌ}
جَزَائُ الصَّیْدِ وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا
لَاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ … الاٰیۃ}
شکار کا متبادل اور اس آیت ِ کریمہ کی تفسیر:{یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا … اَنْتُمْ حُرُمٌ}