الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِي جَوَازِ أَكْلِ صَيْدِ الْبَرِّ إِذَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ باب: اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو¤اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
حدیث نمبر: 4302
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَزَّعَ فَلَمْ يَأْكُلْ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ: أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن عثمان کہتے ہیں: ہم سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ احرام کی حالت میں جا رہے تھے، ان کی خدمت میں شکار کیا ہوا ایک پرندہ بطورِ ہدیہ پیش کیا گیا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت سوئے ہوئے تھے، ہم میں سے بعض نے تو اس کو کھا لیا اور بعض نے اپنا حصہ تقسیم کر دیا اور اسے نہ کھایا، جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو انہوں نے اس شکار کو کھانے والوں کو درست قرار دیا اور کہا: ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسے شکار کا گوشت کھایا تھا۔