حدیث نمبر: 4301
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْعَرْجِ، فَإِذَا هُوَ بِحِمَارٍ عَقِيرٍ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذِهِ رَمْيَتِي فَشَأْنُكُمْ بِهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى عُقْبَةَ أُثَايَةَ، فَإِذَا هُوَ بِظَبْيٍ فِيهِ سَهْمٌ وَهُوَ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: ((قِفْ هَاهُنَا حَتَّى يَمُرَّ الرِّفَاقُ لَا يَرْمِيهِ أَحَدٌ بِشَيْءٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرج کے مقام پر تھے کہ وہاں ایک شکار کیا ہوا جنگلی گدھا پڑا تھا، تھوڑی دیر کے بعد بنو بہز کا ایک آدمی وہاں آ گیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس پر تیر چلایا تھا، یہ یہاں آ کر گر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے کھائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اس کا گوشت رفقائے سفر میں تقسیم کر دیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے کو روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اثایہ کی گھاٹی پر پہنچے تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہرن دیکھا، اس کو تیر لگا ہوا تھا اور وہ ایک پتھر کے سائے میں سر جھکائے کھڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی سے فرمایا: تم یہاں کھڑے رہو تاکہ لوگ گزر جائیں اوران میں سے کوئی بھی اس کی طرف کوئی چیز نہ پھینکے۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ کوئی آدمی نہ اس جانور کو چھوئے، نہ اس کو حرکت دے اور نہ اس کو جوش دلائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4301
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه النسائي: 7/ 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15529»