الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِي جَوَازِ أَكْلِ صَيْدِ الْبَرِّ إِذَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ باب: اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو¤اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ، فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَإِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حدیبیہ والے سال سفر میں روانہ ہوا، میرے رفقاء نے احرام باندھا ہوا تھا اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا،میں نے دوران سفر ایک جنگلی گدھا دیکھ کر اس پر حملہ کر دیا اور اس کو شکار کر لیا۔ پھر میں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ میں احرام کی حالت میں نہیں تھا اور میں نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر شکار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم کھالو۔ پس صحابہ نے تو کھا لیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ کھایا، اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے آپ کو بتلا دیا تھا کہ میں نے یہ شکار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر کیا تھا۔