الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ أَوْ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَزَلَ عَلَى مَسْرُوقٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ لَمْ تَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ))ابو نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی یا ایک بوڑھا، جس کا تعلق اہل مدینہ سے تھا، آیا اور مسروق رحمہ اللہ کے پاس ٹھہرا، اس نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی، لیکن جو بندہ اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی نیکی اس کو فائدہ نہیں دے گی۔“