الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِي جَوَازِ أَكْلِ صَيْدِ الْبَرِّ إِذَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ باب: اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو¤اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
حدیث نمبر: 4295
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ): ((صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ، قَالَ سَعِيدٌ، وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم احرام کی حالت میں ہو تو تمہارے لیے خشکی کا شکار اس صورت میں حلال ہو گا کہ نہ تو تم خود وہ شکار کرو اور نہ تمہاری خاطر کیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … محرِم کے لیے خشکی کے کون سے شکار کا گوشت جائز ہے اور کون سا ناجائز؟ اس معاملے میں اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک امتیازی قانون بیان کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں دوسری احادیث کے عموم کو خاص کیا جائے گا۔ پچھلے باب کی جن احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکار کا گوشت نہیں کھایا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ شکار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھلانے کے لیے کیا گیا تھا۔