الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ تَحْرِيمِ صَيْدِ الْبَرِّ عَلَى الْمُحْرِمِ وَأَكْلِهِ باب: محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ قَالَ: كَانَ أَبِي الْحَارِثُ عَلَى أَمْرٍ مِنْ أَمْرِ مَكَّةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَيْدٍ فَاصْطَادَ أَهْلُ الْمَاءِ حَجَلًا، فَطَبَخْنَاهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ، فَجَعَلْنَاهُ عُرَاقًا لِلثَّرِيدِ، فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى عُثْمَانَ وَأَصْحَابِهِ فَأَمْسَكُوا، فَقَالَ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ، فَأَطْعَمُونَا فَمَا بَأْسٌ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: مَنْ يَقُولُ فِي هَذَا؟ فَقَالُوا: عَلِيٌّ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ جَاءَ وَهُوَ يَحُتُّ الْخَبَطَ عَنْ كَفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُونَا فَمَا بَأْسٌ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلِيٌّ وَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِقَائِمَةِ حِمَارِ وَحْشٍ (وَفِي لَفْظٍ: بِعَجُزِ حِمَارٍ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ)) قَالَ: فَشَهِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أُشْهِدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِبَيْضِ النَّعَامِ، (وَفِي لَفْظٍ: بِخَمْسِ بَيْضَاتِ نَعَامٍ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ، أَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ)) قَالَ: فَشَهِدَ دُونَهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ، قَالَ: فَثَنَى عُثْمَانُ وَرِكَهُ عَنِ الطَّعَامِ فَدَخَلَ رَحْلَهُ (وَفِي لَفْظٍ: فُسْطَاطَهُ) وَأَكَلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ أَهْلُ الْمَاءِ۔ عبد اللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی کا بیان ہے ، وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں میرے والد حارث بن نوفل مکہ کے مسئول تھے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لائے تو میں عبد اللہ بن حارث نے قدید کے قریب نزل کے مقام پر ان کا استقبال کیا، وہاں کے لوگوں نے چکور پرندے کا شکار کیا ہوا تھا، ہم نے اسے پانی اور نمک میں پکایا اور ثرید کے لئے اس کا شوربا بنایا، پھر ہم نے اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی خدمت میں پیش کیا، لیکن وہ اسے کھانے سے باز رہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے نہ تو یہ شکار کیاہے اور نہ اس کے بارے میں کوئی حکم دیا ہے اور جو لوگ احرام میں نہیں ہیں، انہوں نے یہ شکار کرکے ہمارے سامنے پیش کیا ہے، اب اس میں کیا حرج ہے؟ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس مسئلہ کے بارے میں کون بیان کرے گا؟ لوگوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، سو وہ تشریف لائے۔ عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے، وہ اپنی ہتھیلیوں سے پتے جھاڑ رہے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: نہ تو ہم نے یہ شکار کیا اور نہ ہم نے اس کو شکار کرنے کے بارے میں کوئی حکم دیا، جو لوگ احرام میں نہیں ہیں، انہوں نے شکار کرکے اس کو ہمارے سامنے پیش کر دیا،اب اس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غضبناک ہو گئے اور کہنے لگے: میں اس آدمی کو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو اس واقعہ میں موجود تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جنگلی گدھے کا ایک عضو پیش کیا گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ہم احرام کی حالت میں ہیں،یہ ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام میں نہیں ہیں۔ بارہ صحابہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس بات کی تائید کی۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اس آدمی کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شتر مرغ کے انڈے (اور ایک روایت کے مطابق) پانچ انڈے پیش کئے گئے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: ہم تو احرام کی حالت میں ہیں،یہ ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام میں نہیں ہیں۔ اس دفعہ بارہ سے کم افراد نے گواہی دی،یہ سن کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کھانے سے اپنے سرین موڑ لیے اور اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور اس پانی والوں نے وہ کھانا کھا لیا۔