الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ تَحْرِيمِ صَيْدِ الْبَرِّ عَلَى الْمُحْرِمِ وَأَكْلِهِ باب: محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِي الْكَرَاهَةَ، قَالَ: ((إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ))۔ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابواء یا ودان کی وادی میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا، میں نے جگلی گدھے کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ واپس کر دیا،لیکن جب میرے چہرے پر افسردگی کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم نے یہ گوشت واپس نہیں کرنا تھا، بات یہ ہے کہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔