الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْمُحْرِمِ وَإِنْكَاحِهِ وَخُطْبَتِهِ باب: احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
حدیث نمبر: 4287
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور جب ان کے ساتھ خلوت اختیار کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال تھے یعنی احرام کی حالت میں نہ تھے اور میں ان دونوں کے درمیان قاصد تھا۔
وضاحت:
فوائد: … منگنی کا پیغام بھیجنا، نکاح کرنا اور نکاح کروانا، یہ سب امور محرِم کے لیے حرام ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام سے پہلے شادی کی تھی، اس معاملے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو حقیقت ِ حال کا علم نہ ہو سکا تھا اور انھوں نے کسی وہم کی بنا پر یہ سمجھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں نکاح کیا تھا، ممکن ہے کہ جب یہ نکاح مشہور ہوا ہو تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہی سمجھ لیا ہو کہ ابھی نکاح ہوا ہے۔سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا صاحب القصہ تھیں اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ اس نکاح کے قاصد تھے، ان دونوں کا بیانیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام سے پہلے نکاح کیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرِم کے لیے نکاح کرنے کو حرام بھی قرار دیا ہے، اس لیےیہ قرائن اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ نکاح احرام سے پہلے ہوا تھا۔سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام بَرّہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرۂ قضا کے موقع پر ذوالحجہ ۷ ھ میں احرام سے پہلے ان سے نکاح کیا تھا اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد حق زوجیت ادا کیا تھا۔